Energy crises solution

This article addresses problem of energy shortage through the use of conventional, alternative and renewable energy sources.

Posted December 12,2018 in Science and Technology.

Amjad Khagga
1 Friends 20 Views

This article about load shedding i.e. electricity shortages is first in Urdu language then below in English language جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے حکمرانوں کی یہ عادت رہی ہے کہ پیسے کو نیچے یعنی عوامی سطح پر نہیں آنے دیتے مثلاً آپ نے یہ نوٹ کیا ہو گا کہ لوکل باڈیز الیکشن یعنی بلدیاتی انتخابات بڑی مشکل سے اور وہ بھی عدالت کے کہنے پر کروائے گئے وغیرہ وغیرہ اسی طرح آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ بجلی گھر بنانا اور بجلی بنا کر گورنمنٹ کو بیچنا ایک بہت منافع بخش کاروبار ہے اور اس کاروبار میں اب سے پہلے تک صرف کھربوں پتی لوگ ہی لوگ ہی آ سکتے تھے کیوں کہ گورنمنٹ صرف تھوک کے حساب سے یعنی بہت بڑی مقدار میں ہی بجلی خریدتی تھی تاہم جب حکومت نے محسوس کیا کہ جب تک اس نیٹ ورک میں ہم عام عوام الناس کو نہیں لائیں گے تب تک اگلے چالیس سال تک بھی ہم لوڈ شیڈنگ کے جن پر قابو نہیں پا سکیں گے چنانچہ اسمبلی میں بہت بحث مباحثے کے بعد یہ قانون پاس کیا گیا جسے نیٹ میٹرنگ کا قانون کہا جاتا ہے اور باہر کے ملکوں میں تو یہ قانون کافی عرصے سے نافذالعمل ہے چنانچہ اس قانون کے تحت پاکستان میں کوئی بھی گھریلو صارف یا صنعتی صارف یا پھر کمرشل صارف جس کے ہاں تھری فیز کا کنکشن لگا ہو وہ نیٹ میٹرنگ کے تحت گورنمنٹ کو بجلی بیچ سکتا ہے جس کے لئے اس کے ہاں دو میٹر لگائے جائیں گے جن میں سے ایک آنے والی بجلی کو ناپنے کے لئے ہو گا اور دوسرا باہر جانے والی بجلی کو ناپنے کے لئے ہو گا ویسے آج کل ایسے ڈبل میٹر بھی آ گئے ہیں جو ایک ہی پیکنگ میں موجود ہیں چنانچہ اس طرح کے میٹر لگا کر کسی صارف کی وہ بجلی جو اس نے اپنے کسی ذریعے سے بنائی ہو گی فالتو ہونے کی صورت میں گورنمنٹ کو بیچی جا سکے گی اس سلسلے میں گورنمنٹ نے فی الحال چھوٹا پیکیج متعارف کروایا ہے جس کے تحت ایک کلو واٹ سے لے کر ایک میگا واٹ بجلی گورنمنٹ کو بیچی جائے گی اور ایک میگا واٹ بجلی پیدا کرنا اللہ کے فضل سے کوئی مشکل کام نہیں میری کمپنی اسی طرح کی خدمات کے لئے انجینیئرنگ سروسز مہیا کرتی ہے فی الحال گورنمنٹ جس ریٹ پر بجلی خرید رہی ہے وہ 6 روپے فی یونٹ سے زیادہ ہے تاہم اگر گورنمنٹ 6 روپے فی یونٹ بھی لگائے تو ایک میگا واٹ بجلی کے حساب سے آپ کی سالانہ آمدنی 52560000 یعنی پانچ کروڑ پچیس لاکھ ساٹھ ہزار روپے سالانہ بنتی ہے جس کا چیک ہر تین ماہ بعد ملتا ہے جو کہ 13140000 یعنی ایک کروڑ اکتیس لاکھ چالیس ہزار فی تین ماہ (فی سہ ماہی) بنتا ہے لہٰذا قبل ازیں اسی سلسلے میں فیس بک پر میری ایک پوسٹ موجود ہے جسے دوبارہ میں آپ کے لئے پیش کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ -------- اگر آپ اپنے گھر کے لئے اپنی بجلی خود بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے کچھ شرطیں ہیں ان شرطوں میں سے کسی ایک شرط کو تو پورا ہونا چاہیئے اور وہ شرطیں یا سوال یہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کے علاقے میں سورج خوب چمکتا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کے علاقے میں ہوائیں خوب چلتی ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کے گھر سے کچھ فاصلے پر کوئی نہر، دریا یا کوئی ندی نالہ یا کوئی بلندی سے گرتی آبشار ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کے ہاں کچھ گائیں یا بھینسیں وغیرہ ہیں جن کا گوبر آپ کو دستیاب ہو تاکہ گوبر گیس (بائیو گیس) بنائی جا سکے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کے پاس کوئی اونٹ یا بیل وغیرہ جیسے طاقتور جانور ہیں جنہیں گول چکر میں گھومنے والے مکینیکل گیئر سسٹم میں جوت کر گھماؤ کی میکانکی طاقت کے ذریعے بجلی پیدا کی جا سکے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سمندر سے بھی تین طرح سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے؟ پس اس حوالے سے میرا اگلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کا گھر سمندر کے قریب ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کوئلے کو ڈیزل اور گیس میں بدلنے کی ٹیکنالوجی ایجاد ہو چکی ہے؟ پس اس حوالے سے میرا اگلا سوال یہ ہے کہ کیا آپ کسی کوئلے کی کان کے مالک ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ ایسی زمینوں کے مالک ہیں جو نقد آور فصلیں پیدا نہیں کر سکتیں؟ تاکہ یا تو ان پر ایندھن کے طور پر استعمال ہو سکنے والے پودے اگائے جا سکیں جنہیں براہ راست جلا کر کوئلے کے انداز میں استعمال کیا جا سکے اور یا پھر ان پر وہ فصلیں اگائی جا سکیں جن سے بائیو ڈیزل یا ایتھانول کی پیداوار حاصل کی جا سکے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا آپ ایٹمی توانائی کے ایسے ری ایکٹروں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں جو اتنی مقدار میں ایٹمی فضلہ پیدا کرتے ہوں جتنی مقدار ایٹمی تعامل میں خرچ ہو جائے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی زیرو فضلہ دوسرے لفظوں میں ایٹمی فضلے کو ٹھکانے لگانے کی فکر اور جھنجھٹ سے چھٹکارا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پس اگر ان سوالوں میں سے کم از کم ایک یا زیادہ سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو آپ مجھ سے رابطہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔ امجد رفیع شاہ کھگہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پروپرائیٹر کوالٹی سلوشنز کمپنی ملتان ۔۔۔۔۔۔۔۔ پتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ رفیع ہوم ہاؤس نمبر 14 عقب جی پی او حسن پروانہ کالونی ملتان ۔۔۔۔۔۔۔۔ موبائل ۔۔۔۔۔۔۔۔ 03416396862 ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ ہے میری ویب سائیٹ کا ایڈریس ۔۔۔۔۔۔۔۔ کوالٹی ڈیش سلوشنز ڈاٹ بزنس ڈاٹ سائٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ۔۔۔۔۔۔۔۔
QUALITY-SOLUTIONS.BUSINESS.SITE 
If you want to produce your own electricity then read the following questionnaire and answer the questions in the form of YES or NO if at least one of your answers is Yes then you can produce your own electricity ................
Q 1: Dose sun shine well in your area? ................................
Q 2: Do winds blow well in your area? ................................
Q 3: Do you have source of water flow near you such as a river or a canal or a water fall etc? ................................
Q 4: Do you have some cattle that produce enough dung to produce bio gas? ................................
Q 5: Do you have strong and powerful animals such as a camel or a horse or a bull to harness to a mechanically rotating gear system to yield a rotation for an electric generator? ................................
Q 6: Do you live in a coastal area? ................................
Q 7: Do you own a coal mine? ................................
Q 8: Do you own lands that do not produce profitable crops? ................................
Q 9: Do you have interest in investing in a Nuclear power reactor? ................................
And if YES as at least one answer then contact me. Here is my website: QUALITY-SOLUTIONS.BUSINESS.SITE
Moreover you can also go to the following link to read about the scope and kind of services I do provide currently which I hope to extend on a website named chaiwala (he is azad chaiwala (a british national pakistani from mirpur azad kashmir Pakistan)) --------
https://www.chaiwala.com/viewtopic.php?f=16t=2034
Best Regards
Amjad Khagga

Amjad Khagga Articles

Recent

Recent Articles From: Amjad Khagga

Popular

Popular Articles From: Amjad Khagga

Read more